CHARACTERS کھڑکی بھر آسمان î PDF, eBook or Kindle ePUB


کھڑکی بھر آسمان

FREE DOWNLOAD کھڑکی بھر آسمان

آٹھ، نو سہیلیاں اور ایک طوطا مبارک باد دینے آئے ہیں۔ آنکھ بھر آسمان Eyeful Sky | Literary Works of Yawar Maajed یاور ماجد ۔ Yawar Maajed آنکھ بھر آسمان ندی بہتی ہے تو اتنے مدھر گیت کیوں گاتی ہے؟ بہاریں پژمردہ زمین کو زندگی بانٹتے ہوئے سرخیاں کیوں پرونے لگ جاتی ہیں؟ برگد کے درخت بادِ صبا کے بوسے پاتے ہی لہلہانے کیوں لگتے ہیں؟ اسد محمد خان آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا ء کھڑکی بھر آسمان کہانیاں اور نظمیں ء برجِ خموشاں کہانیاں ء رُکے ہوئے ساون گیت ء غصے کی نئی فصل کہانیاں ء The Harvest of Anger and Other Stories اکیس کہانیوں کا انگریزی ترجمہ ء افسانہ سراب urduculturebookletcom مٹھی بھر آسمان میں ایک کھڑکی وائرس آرگن بازار افسانہ دیدئہ نم کمنٹ کریں دوستوں سے رجوع کریں بلاگ مقابلہ مشہور; تازہ ترین; ہانتا وائرس کیا ہے ؟ کرونا وائرس کیا ہے ؟ اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے ؟ یوگ کی افادیت لاک ڈاؤن ک. Me and My PeopleThere was an apprentice of Mirza Assad Ullah Khan Ghalib in the Pashtoon State of Bhopal Hidistaan named Nawab Yar Muhammad Khan Shaukat His second son Sardaar Sultan Muhammad Khan's daughter named Munawar Jahan Begum was my beloved mother My Tribe Orakzai Meerzaikhail resided Tirah near Khyber PathFounder of Bhopal state The warrior with Sword Sardar Dost Muhammad Khan is my encestor in 9th generation He entered in Malway Bandel Khandd in 1730 Though I left that place after 247 yearsMy paternal grandfather Mian Kamal Muhammad Khan A Peasant Mystic leader and FeudalMy father Mian Izzat Muhammad Khan was Art Teacher Painter to be precised a Shantiniketan dropout so off course Tegore's lover He spent last 30 years of his life preaching for Islam 65 clerks 14 lords 2 dacoits 3 politicians 11 army Generals 1 Saint 1 Martyre Usman Muhammad Khan Khaksaar He was killed by a bullet by an English solider He died while fighting with shovel and redeemed in my opinion the sin which was commityed by Bhopal state in 1857 There was a monument on main entrance of Bhopal Fort that Bhopal state is faithful and it demolished the 1857's rebellion with help of 50 soldiers I had wallowed it with slush in wrath when I was 11 My cousin Usman washed this stain on my family 2 comrades 1 Olympian 7 mechanics 34 tehsiledaars 1 Paish Imam 1 diplomate 7 poets some policemen many lecturers and teachers 1 Tangah Driver 30 to 40 feudal lords and 500 Sloppies were produced by my familyMy great ancestors killed for family respectNobody ever committed suicide in our familyWe know how to stick with lifeI born in my family house on 26 Dec 1932According to my grand father's diary He born on unlucky time of the day May God take care of him Shahjahaani Model High School Bhopal Hameediya College Bhopal JJ Schook of Arts Bombay Railway Walton Training School Lahore Jinnah College Karachi Sindh Muslim Arts College Karachi Urdu college Karachi and University of Karachi English Depart are the institutions which tried to make me a better person but they couldn't I had been Commercial artist publisher clerk assistant station master travel agent English teacher commercial writer radio newsreader and much I did many things like this and couldn't do something rightI am a man with a familyI want to write songs poems stories dramas one movie and a will I want to paint the paintings like my fatherI want to be sticked with life as an octopus by 8 sidesI think I don't need to explain further He is really an artist but with a pen

FREE READ ¶ PDF, eBook or Kindle ePUB ô Asad Muhammad Khan

CiNii 図書 کہڑکی بھر آسمان نظمیں، کہانیاں کہڑکی بھر آسمان نظمیں، کہانیاں اسد محمد خاں سیفورٹین pbk کہڑکی بھر آسمان نظمیں، کہانیاں | 東京外国語大学附属図書 کہڑکی بھر آسمان نظمیں، کہانیاں اسد محمد خاں フォーマット 図書 タイトルのヨミ Khiṛkī bhar āsmān naẓmen̲ kahāniyān 言語 ウルドゥー語 出版情報 کراچی سیفورٹین 形態 p ; cm 著者名 Asad Muḥammad K̲h̲ān̲ DA Khirki Bhar Aasman کھڑکی بھر آسمان || ↠ PDF Read by ہم کھڑکی بھر آسمان والے وقت سے شاید پچاس سال آگے جی رہےہیں مگر کہانیوں کے کردار آج بھی موجود ہیں کسی بڑے شہر کی قمقوں سے تھوڑا دور ، چھاونی کے اس پار یا کسی زرعی زمیں پر کاٹی گئی سوسایٹی کے پیچھے چھوٹے سے گاؤں میں جہاں اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا امجد اسلام امجد by امجد اسلام امجد اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا جس پر تیر. ہم کھڑکی بھر آسمان والے وقت سے شاید پچاس سال آگے جی رہےہیں مگر کہانیوں کے کردار آج بھی موجود ہیں کسی بڑے شہر کی قمقوں سے تھوڑا دور ، چھاونی کے اس پار یا کسی زرعی زمیں پر کاٹی گئی سوسایٹی کے پیچھے چھوٹے سے گاؤں میں جہاں محرومیوں کا تریاق ،خواہشوں کے صحرا میں بن بلائےمہمان کی طرح آتا ہے اور ایسے ہی چلا جاتا ہے مگر اسد محمد خان کے زمانے کی بھینی بھینی خشبو ہمارے اندر رہے جاتی ہے بلکہ ٹھہرجاتی ہےاس کتاب کی جان باسودے کی مریم میں اٹکی ہے جس نے معاشی غریب مریم کی ٹوٹی پھوٹی زندگی کو منور کیا اور مریم کے دل پر لکھے الفاظ کو روشن کر دیے ہیں جو کچھ یوں ہے غربت کے عفریت میں انسان کا سب سے سستا مشغلہ مذہب ہوتا ہے جس میں انسان کو کامیاب ہونے کے لیے صحیفے حفط کرنے ضرورت نہیں ہوتا بس دل چاہیے ہوتا ہے کانچھ کا دل جہاں زندگی بہت سے قید وبند سے آذاد مذہب اور رویات کے پہرے داروں کو دھوکہ دے کرخواب بنے لگے ادھورے خواب جو ادھورے رہے کر بھی مکمل ہو جاویں

Asad Muhammad Khan ô 6 CHARACTERS

ا نام لکھا ہے اس تارے کو ڈھونڈوں گا تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا کرہِ ارض ضروری مرمت کے لیے بند ہے اردو صفحہ UrduSafha جس کھڑکی کے قریب بیٹھ کر میں لکھائی پڑھائی کاکام کرتا ہوں، اسی کھڑکی کےباہر کونے میں چڑیا نے آج اپنا گھونسلہ مکمل کر لیا۔ اس کی آٹھ، نو سہیلیاں اور ایک طوطا مبارک باد دینے آئے ہیں۔ ایک چہچہاتی ہاؤس وارمنگ پارٹی چل رہی ہے اسد محمد خان وکیپیڈیا ء کھڑکی بھر آسمان کہانیاں تے نظماں ء برجِ خموشاں کہانیاں ء رُکے ہوئے ساون گیت ء غصے د‏‏ی نويں فصل کہانیاں ء – The Harvest of Anger and Other Stories اکیس کہانیاں دا انگریزی ترجمہ کُرہِ ارض ضروری مرمت کیلئے بند ہے | وسعت اللہ خان | سماچار تحریر وسعت اللہ خان جس کھڑکی کے قریب بیٹھ کر میں لکھائی پڑھائی کا کام کرتا ہوں، اسی کھڑکی کے باہر کونے میں چڑیا نے آج اپنا گھونسلہ مکمل کر لیا۔ اس کی. ہمارے ادیبوں اور ان کی تصانیف کے سلسلے میں دو طرح کے حالات سے سابقہ پڑا ہے۔ ایک وہ جو اپنی پہلی کتاب سے معیار اور ناموری کی بلندیوں پر پہنچتے ہیں مگر بعد ازاں انہیں اپنے ہی حاصل کردہ معیار سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جس میں اکثر لکھنے والوں کو زیادہ تر ہارتے ہی دیکھا۔دوسرے وہ ہیں جن کی بعد کی تصانیف ان کی پہلی کتاب سے بہتر محسوس ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ اسد محمد خاں اس دوسرے قبیلے کے ممبر ہیں۔کھڑکی بھر آسمان ان کی پہلی کاوش ہے۔ اسے انہوں نے ’اپنا کھانا خود گرم کرو‘ کے تحت اپنے گھر سے خود شائع کیا۔ محبت اور محنت ٹھکانے لگی اور ناقدین نے ان کو معتبر حلقے میں جگہ دے دی۔ کتاب میں شامل افسانہ ’ترلوچن‘ نصاب میں جا شامل ہوا اور ’باسودے کی مریم‘ کا بجتا ڈنکا آج بھی اسد خاں صاحب کا اولین تعارف ہے۔ ۔ ۔ یہ بات دوسری ہے کہ ’باسودے کی مریم‘ ایسا افسانہ واقعی دل میں جا بسنے کے لائق ہے جبکہ ’ترلوچن‘ کا کوئی سِرا آسمانِ بالا سے میرے ذہنِ نارسا کے ہاتھ نہ آسکا۔ کتاب کے دیگر افسانوں میں ’مئی دادا‘ جو کہ شخصی افسانہ ہے، بہت پسند آیا۔ ۔ ۔ باقی افسانے مبہم یا مہمل سے لگے جس کے لئے قصوروار اسد خاں صاحب نہیں، اپنا آپ مانتا ہوں۔زبان و انداز کی انفرادیت اور نیا پن جس نے تیسرے پہر کی کہانیاں میں دل پر نقش چھوڑا تھا، اس کا ہلکا ہلکا پرتو اس کتاب میں بھی جھلکتا ہے۔ دیباچے کا آغاز ہی جن الفاظ سے ہوتا ہے، بڑے جاندار ہیں۔ لکھتے ہیں۔’’ادب صرف اپنے آمروں کو پہچانتا ہے اور میں بڑی بے شرمی کے ساتھ اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی اپنی ایک چھوٹی سی قلمرو تراش کر اس کی طے شدہ حدوں میں اپنا حکم نافذ کرنے آیا ہوں۔ ۔ ۔ یہ بہت سادہ اور کم لاگت سے تیار کی ہوئی کتاب ہے۔ میں اس بات کو سمجھتا ہوں کہ چاہے اپنا مجموعہ ورقِ طلائی پر خطِ گہربار سے لکھوا کر پیش کروں، چاہے کچے اخباری کاغذ پر توپ دوں، میں رہوں گا وہی جو کہ میں ہوں۔ اس لئے میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے اپنے لفظوں کی بجائے کتابت اور طباعت اور جلد سازی کی معزز صنعتیں میری نمائندگی کریں‘‘۔آخر میں کتاب کے لئے مکرمی و محترمی سلمان طارق کا شکریہ واجب ہے۔

  • Paperback
  • 88
  • کھڑکی بھر آسمان
  • Asad Muhammad Khan
  • Urdu
  • 26 June 2019
  • 9789699473784

4 thoughts on “کھڑکی بھر آسمان

  1. says:

    ہم کھڑکی بھر آسمان والے وقت سے شاید پچاس سال آگے جی رہےہیں مگر کہانیوں کے کردار آج بھی موجود ہیں کسی بڑے شہر کی قمقوں سے تھوڑا دور ، چھاونی کے اس پار یا کسی زرعی زمیں پر کاٹی گئی سوسایٹی کے پیچھے چھوٹے سے گاؤں میں جہاں محرومیوں کا تریاق ،خواہشوں کے صحرا میں بن بلائےمہمان کی طرح آتا ہے اور ایسے ہی چلا جاتا ہے مگر اسد محمد خان کے زمانے کی بھینی بھینی خشبو ہمارے اندر رہے جاتی ہے بلکہ ٹھہرجاتی ہےاس کتاب کی جان باسودے کی مریم میں اٹکی ہے جس نے معاشی غریب مریم کی ٹوٹی پھوٹی زندگی کو منور کیا اور مریم کے دل پر لکھے الفاظ کو روشن کر دیے ہیں جو کچھ یوں ہے غربت کے عفریت میں انسان کا سب سے سستا مشغلہ مذہب ہوتا ہے جس میں انسان کو کامیاب ہونے کے لیے صحیفے حفط کرنے ضرورت نہیں ہوتا بس دل چاہیے ہوتا ہے کانچھ کا دل جہاں زندگی بہت سے قید وبند سے آذاد مذہب اور رویات کے پہرے داروں کو دھوکہ دے کرخواب بنے لگے ادھورے خواب جو ادھورے رہے کر بھی مکمل ہو جاویں

  2. says:

    ہمارے ادیبوں اور ان کی تصانیف کے سلسلے میں دو طرح کے حالات سے سابقہ پڑا ہے۔ ایک وہ جو اپنی پہلی کتاب سے معیار اور ناموری کی بلندیوں پر پہنچتے ہیں مگر بعد ازاں انہیں اپنے ہی حاصل کردہ معیار سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جس میں اکثر لکھنے والوں کو زیادہ تر ہارتے ہی دیکھا۔دوسرے وہ ہیں جن کی بعد کی تصانیف ان کی پہلی کتاب سے بہتر محسوس ہوتی ہیں۔ ۔ ۔ اسد محمد خاں اس دوسرے قبیلے کے ممبر ہیں۔کھڑکی بھر آسمان ان کی پہلی کاوش ہے۔ اسے انہوں نے ’اپنا کھانا خود گرم کرو‘ کے تحت اپنے گھر سے خود شائع کیا۔ محبت اور محنت ٹھکانے لگی اور ناقدین نے ان کو معتبر حلقے میں جگہ دے دی۔ کتاب میں شامل افسانہ ’ترلوچن‘ نصاب میں جا شامل ہوا اور ’باسودے کی مریم‘ کا بجتا ڈنکا آج بھی اسد خاں صاحب کا اولین تعارف ہے۔ ۔ ۔ یہ بات دوسری ہے کہ ’باسودے کی مریم‘ ایسا افسانہ واقعی دل میں جا بسنے کے لائق ہے جبکہ ’ترلوچن‘ کا کوئی سِرا آسمانِ بالا سے میرے ذہنِ نارسا کے ہاتھ نہ آسکا۔ کتاب کے دیگر افسانوں میں ’مئی دادا‘ جو کہ شخصی افسانہ ہے، بہت پسند آیا۔ ۔ ۔ باقی افسانے مبہم یا مہمل سے لگے جس کے لئے قصوروار اسد خاں صاحب نہیں، اپنا آپ مانتا ہوں۔زبان و انداز کی انفرادیت اور نیا پن جس نے تیسرے پہر کی کہانیاں میں دل پر نقش چھوڑا تھا، اس کا ہلکا ہلکا پرتو اس کتاب میں بھی جھلکتا ہے۔ دیباچے کا آغاز ہی جن الفاظ سے ہوتا ہے، بڑے جاندار ہیں۔ لکھتے ہیں۔’’ادب صرف اپنے آمروں کو پہچانتا ہے اور میں بڑی بے شرمی کے ساتھ اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی اپنی ایک چھوٹی سی قلمرو تراش کر اس کی طے شدہ حدوں میں اپنا حکم نافذ کرنے آیا ہوں۔ ۔ ۔ یہ بہت سادہ اور کم لاگت سے تیار کی ہوئی کتاب ہے۔ میں اس بات کو سمجھتا ہوں کہ چاہے اپنا مجموعہ ورقِ طلائی پر خطِ گہربار سے لکھوا کر پیش کروں، چاہے کچے اخباری کاغذ پر توپ دوں، میں رہوں گا وہی جو کہ میں ہوں۔ اس لئے میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے اپنے لفظوں کی بجائے کتابت اور طباعت اور جلد سازی کی معزز صنعتیں میری نمائندگی کریں‘‘۔آخر میں کتاب کے لئے مکرمی و محترمی سلمان طارق کا شکریہ واجب ہے۔

  3. says:

    Me and My PeopleThere was an apprentice of Mirza Assad Ullah Khan Ghalib in the Pashtoon State of Bhopal Hidistaan named Nawab Yar Muhammad Khan Shaukat His second son Sardaar Sultan Muhammad Khan's daughter named Munawar Jahan Begum was my beloved mother My Tribe Orakzai Meerzaikhail resided Tirah near Khyber PathFounder of Bhopal state The warrior with Sword Sardar Dost Muhammad Khan is my encestor in 9th generation He entered in Malway Bandel Khandd in 1730 Though I left that place after 247 yearsMy paternal grandfather Mian Kamal Muhammad Khan A Peasant Mystic leader and FeudalMy father Mian Izzat Muhammad Khan was Art Teacher Painter to be precised a Shantiniketan dropout so off course Tegore's lover He spent last 30 years of his life preaching for Islam 65 clerks 14 lords 2 dacoits 3 politicians 11 army Generals 1 Saint 1 Martyre Usman Muhammad Khan Khaksaar He was killed by a bullet by an English solider He died while fighting with shovel and redeemed in my opinion the sin which was commityed by Bhopal state in 1857 There was a monument on main entrance of Bhopal Fort that Bhopal state is faithful and it demolished the 1857's rebellion with help of 50 soldiers I had wallowed it with slush in wrath when I was 11 My cousin Usman washed this stain on my family 2 comrades 1 Olympian 7 mechanics 34 tehsiledaars 1 Paish Imam 1 diplomate 7 poets some policemen many lecturers and teachers 1 Tangah Driver 30 to 40 feudal lords and 500 Sloppies were produced by my familyMy great ancestors killed for family respectNobody ever committed suicide in our familyWe know how to stick with lifeI born in my family house on 26 Dec 1932According to my grand father's diary He born on unlucky time of the day May God take care of him Shahjahaani Model High School Bhopal Hameediya College Bhopal JJ Schook of Arts Bombay Railway Walton Training School Lahore Jinnah College Karachi Sindh Muslim Arts College Karachi Urdu college Karachi and University of Karachi English Depart are the institutions which tried to make me a better person but they couldn't I had been Commercial artist publisher clerk assistant station master travel agent English teacher commercial writer radio newsreader and much I did many things like this and couldn't do something rightI am a man with a familyI want to write songs poems stories dramas one movie and a will I want to paint the paintings like my fatherI want to be sticked with life as an octopus by 8 sidesI think I don't need to explain further He is really an artist but with a pen

  4. says:

    باسودے کی مریم، مائی دادا اور ترلوچن افسانوں کے اس مجموعہ کی بہت اچھی کہانیاں ہیں۔ اسد محمد خان کو پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ وہ عام قاری کے لکھت نہیں ہیں۔ باسودے کی مریم ایک ایسا شاہکار افسانہ ہے جس کو اردو ادب سے محبت رکھنے والے ہر قاری کو لازمی پڑھنا چاہئیے۔ یہ کہانی ہے باسودے کی مریم کی جو کہ اپنے حجور جی کے سہر کو دیکھنے کی آس اپنے موئے ممدو کی بیماری اور پھر اس کے مرنے کے کارن نہیں کر سکتی اور اپنی یہی حسرت لیے اس دارِ فانی سے رخصت ہو جاتی ہے۔ یہ ایک دلوں کو چھو جانے والی کہانی ہے۔ جو کہ اردو ادب کے افسانوں کے ماتھے کا جھومر کہلائے جانے کے لائق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *