READ Û جنت کی تلاش


جنت کی تلاش

SUMMARY جنت کی تلاش

پانی نکالنے کی کوشش کی لیکن یہ آسان کام نہیں تھا چنانچہ یہ لوگ سال گزرنے کے باوجود ریت میں گم شہر کی صرف ایک چٹان کھود سکے اور یہ چٹان شداد کی جنت کا سرا تھی ‘میں اس جنت گم گشتہ کی تلاش میں جمعہ Jannat Ki Talash جنت کی تلاش by Rahim Gul Jannat Ki Talash جنت کی تلاش book Read reviews from the world's largest community for readers جنت کی تلاش Mubashir Nazir جنت کی تلاش Click here for English Version پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔ Religion Ethics Personality Development Islamic Studies uranic Arabic Learning Adventure Tourism Risk Management Your uestions Comments Urdu Arabic Setup About the Founder کلاس روم میں چالیس کے قریب بچے حفظ کر ‫میں اپنی جنت کی تلاش میں ہوں Episode Urdu Novel Nighat A Classical Urdu novel based on universal life of Human beings جنت کی تلاش – Its Kitaabistan the world of books جنت کی تلاش از رحیم گل مصنف رحیم گل صفحات صنف ناول رحیم گل مرحوم صاحب ایک معروف ادیب، اور ناقد تھے۔ آپ فلموں کی ہدایت کاری بھی کرتے رہے تھے۔ جنت کی تلاش آپ کے قلم سے نکلا ہوا آخری ناول ہے جس نے اپنے زمانے میں بہت جنت کی تلاش، بلتستان وارث اقبال DaleelPk کتنے بانکے جوان کھیتوں میں اپنا رزق تلاش کرتے ہوں گے۔ ’’ او مائی گاڈ اٹس فئیری لینڈ۔ ‘‘ پسو کونز، پسو کیتھڈرل۔۔۔ یہ وہ نام تھے جو ان چوٹیوں کو دیے گئے تھے۔ عام طور پر پہاڑوں کی چوٹیاں نوکیلی نہیں ہوتیں، وہ کوئی ڈھیریوں جنت کی تلاش میں | اُردو ڈائجسٹ سمی یک غریب ماں کی بیٹی تھی۔ وہ اپنی ماں اور بھائی کے ساتھ ایک معمولی کوارٹر میں مقیم تھی۔ اس کا بھ جنت کی تلاش | اُردو اِی لائبریری جنت کی تلاش کلیات حفیظ تائب کتابیں آؤ پاکستان لوٹیں; آزادی ہند; آنچل; آنسو بہانا یاد ہے; آوارگی; آوارہ مزاج; احمقوں کی جنت; اَدھ کھِلا گُلاب; اسلام میں قانون سازی; اسلامی بم کا خالق کون; اسلامی معلومات; افراتفریح; افریق جنت کی تلاش از رحیم گل – Its Kitaabistan the world جنت کی تلاش از رحیم گل مصنف رحیم گل صفحات صنف ناول رحیم گل مرحوم صاحب ایک معروف ادیب، اور ناقد تھے۔ آپ فلموں کی ہدایت کاری بھی کرتے رہے تھے۔ جنت کی تلاش آپ کے قلم سے نکلا ہوا آخری ناول ہے جس نے اپنے زمانے میں بہت غالب، جنت کی تلاش میں ہم سب جونہی سردیاں شروع ہوتی ہیں، کتاب پڑھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ کتاب ہاتھ میں لے کر گرم رضائی میں لیٹ کر پڑھنا اور اس کا لمس اپنے ہاتھوں اور ورق پلٹتی انگلیوں میں محسوس کرنا بھی کسی خوبصورت محبوب کے بازوں میں سونے سے کم غالب جنت کی تلاش میں ہم سب غالب جنت کی تلاش میں رؤف کلاسرا nb Views Comment. بہت اچھی کتاب کتاب میں ایسے سوالات اٹھائے گئے ہ

READ & DOWNLOAD ☆ E-book, or Kindle E-pub â Rahim Gul

Religion Articles Hamariwebcom جنت کی تلاش جنت کی تلاش ۔۔۔۔ usman ahsan liverpool UK کی تلاش کا نتیجه | موضو ای کتاب صفحہ jannat ki haiat جنت کی تلاش رحیم گل جنت کے نظارے نامعلوم مصنف حسن بن صباح کی جنت خورشید ہاشمی جنت کی جھلک اوپندر ناتھ اشک جنت کی جھلک اوپندر ناتھ اشک قصر جنت جنت کا بھوت جنت میں مشاعرہ عارف بٹالوی جنت سے زمین پر اب ‫عِِشق ــــــ تو کہانی شروع ہوتی ہے رشتے کی تلاش سے یہ یہ جو ماں بہنیں کسی جنت کی حور کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتی پھرتی ہیں اس کا حاصل کیا ہے؟ مقصد کیا ہے ؟ اس کا شادی اور خوشی سے کیا تعلق ہے؟ حسن کا یہ غیر حقیقی معیار کسی خاندان کی مضبوطی اور آنے والی نسلوں کی تربیت سے کس لحاظ سے جنت کی تلاش از رحیم گلپڑھنے کے لائق ناول، سفر نامہ جنت کی تلاش از رحیم گلپڑھنے کے لائق ناول، سفر نامہ۔۔۔ وسیم بن اشرف طنزو مزاح ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقَت لیکن تقدیس نقوی اس لئے بریک ٹائم میں جنت کی تلاش میں ہم شہر کی گلیوں کی خاک چھاننے نکل کھڑے ہوئے۔ تھوڑی ہی دور گئے تھے ہمیں کچھ جلنے کی بو آنے لگی۔ لوگوں نے بتایا کہ شہر کے اس حصہ میں کچھ دن پہلے ہوئے دنگے فساد حدیث جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ حدیث جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے موسوعۃ الاحادیث النبویہ مترجم تیرے پہلو میں جنت کی تلاش ۔۔۔۔۔ سحرش عثمان wwwdaanishpk تیرے پہلو میں جنت کی تلاش ۔۔۔۔۔ سحرش عثمان نیندسے لڑتے جھگڑتے جب کھڑکی کے پاس جا ٹھکانہ کیا تو باہر اکتوبر کی اولین راتوں کا سحر پھونکتا آسماں منتظر تھا۔گہرا نیلا خاموش آسمان اور چپکے چپکے چمکتےتارے جیسے ان کے زور سے فضائلِ اہلِ بیتِ اَطہارؓ حصہ اول Jasarat News Urdu تلاش کریں English News; ای پیپر سے مجھے سلام کرنے کی اجازت لی اور مجھے یہ بشارت دی ہے کہ فاطمہ اہلِ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن وحسین اہلِ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، ترمذی‘‘، ’’سیدنا ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں میں ن بارہ سال میں تیار ہونے والی شداد کی جنت۔۔۔۔ثنا اللہ خان شداد کی جس جنت کا قران مجید میں ذکر ہے وہ امریکن خلائی شٹل چیلنجر نے دریافت کرلی۔ شداد کی کسمپرسی اور بے چارگی پر ملک الموت کو دو مرتبہ ترس آیا قصہ کہانی سمجھی جانے والی اس جنت کے شداد کی جنت ایکسپریس اردو آرکیالوجسٹس نے پائپ لگا کر پانی نکالنے کی کوشش کی لیکن یہ آسان کام نہیں تھا چنانچہ یہ لوگ سال گزرنے کے باوجود ریت م?. ناول کو تین زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۱ تخلیقی پ

Rahim Gul â 9 READ

?ں گم شہر کی صرف ایک چٹان کھود سکے اور یہ چٹان شداد کی جنت کا سرا تھی ‘میں اس جنت گم گشتہ کی تلاش میں جمعہ Religion Articles Hamariwebcom جنت کی تلاش جنت کی تلاش ۔۔۔۔ usman ahsan liverpool UK کی تلاش کا نتیجه | موضو ای کتاب صفحہ jannat ki haiat جنت کی تلاش رحیم گل جنت کے نظارے نامعلوم مصنف حسن بن صباح کی جنت خورشید ہاشمی جنت کی جھلک اوپندر ناتھ اشک جنت کی جھلک اوپندر ناتھ اشک قصر جنت جنت کا بھوت جنت میں مشاعرہ عارف بٹالوی جنت سے زمین پر اب ‫عِِشق ــــــ تو کہانی شروع ہوتی ہے رشتے کی تلاش سے یہ یہ جو ماں بہنیں کسی جنت کی حور کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتی پھرتی ہیں اس کا حاصل کیا ہے؟ مقصد کیا ہے ؟ اس کا شادی اور خوشی سے کیا تعلق ہے؟ حسن کا یہ غیر حقیقی معیار کسی خاندان کی مضبوطی اور آنے والی نسلوں کی تربیت سے کس لحاظ سے جنت کی تلاش از رحیم گلپڑھنے کے لائق ناول، سفر نامہ جنت کی تلاش از رحیم گلپڑھنے کے لائق ناول، سفر نامہ۔۔۔ وسیم بن اشرف iSeek جنّت کی سیر میں آگے بڑھا اور یاقوت و زمرّد سے بنا ہوا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔ جنّت کو ایک وسیع و عریض لا متناہی رقبہ پر آباد ایک خوش نما شہر دیکھا۔ سچّے موتیوں کی چمک دمک بنی ہوئی اینٹوں سے فلک بوس محلات نظر آئے۔ طنزو مزاح ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقَت لیکن تقدیس نقوی اس لئے بریک ٹائم میں جنت کی تلاش میں ہم شہر کی گلیوں کی خاک چھاننے نکل کھڑے ہوئے۔ تھوڑی ہی دور گئے تھے ہمیں کچھ جلنے کی بو آنے لگی۔ لوگوں نے بتایا کہ شہر کے اس حصہ میں کچھ دن پہلے ہوئے دنگے فساد حدیث جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ حدیث جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے موسوعۃ الاحادیث النبویہ مترجم تیرے پہلو میں جنت کی تلاش ۔۔۔۔۔ سحرش عثمان wwwdaanishpk تیرے پہلو میں جنت کی تلاش ۔۔۔۔۔ سحرش عثمان نیندسے لڑتے جھگڑتے جب کھڑکی کے پاس جا ٹھکانہ کیا تو باہر اکتوبر کی اولین راتوں کا سحر پھونکتا آسماں منتظر تھا۔گہرا نیلا خاموش آسمان اور چپکے چپکے چمکتےتارے جیسے ان کے زور سے فضائلِ اہلِ بیتِ اَطہارؓ حصہ اول Jasarat News Urdu تلاش کریں English News; ای پیپر سے مجھے سلام کرنے کی اجازت لی اور مجھے یہ بشارت دی ہے کہ فاطمہ اہلِ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن وحسین اہلِ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، ترمذی‘‘، ’’سیدنا ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں میں ن شداد کی جنت ایکسپریس اردو آرکیالوجسٹس نے پائپ لگا کر. Beyond my review

  • Hardcover
  • 440
  • جنت کی تلاش
  • Rahim Gul
  • Urdu
  • 04 August 2019
  • null

About the Author: Rahim Gul

Born 1924Famous Urdu Pakistani writer literary critic author film director and film producer With various books of fiction criticism biography and art to his credit Rahim Gul was a major figure in contemporary Urdu literature He is best known for his last and the most widely read novel Jannat Ki Talash



10 thoughts on “جنت کی تلاش

  1. says:

    ناول کو تین زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۱ تخلیقی پہلو سے یہ عام مہم اور اک عام سی کہانی ہے۲ فلسفہ زندگی اور انسانی جبلت پر اٹھاے گئے سوالات اس ناول کا خاصا اور ناول کی جان بھی ہیں۳ سفر نامےمیں الفاظ کو پرونا اک فن ہے مصنف اس میں ناکام رہا امتل کا کردار ہر اس منفی جذبے کا استعارہ ہے جس سے انسان کی تذلیل ہوتی ہے اور قاری ناچاہتے ہوہے بھی اس کے خلاف دلائل ڈونڈھتا ہے اور مایوسی سے نفرت بھی کرتا ہے۔ دوسری طرف امتل فلسفہ کی وہ معراج ہے جو انسان کو بینادی سولات سوچنے پر مجبور کر کے ، لوگوں متاثر کرتی ہے ۔ حسن کا مقابلہ کہاں آسان ہوتا ہے، ناچاھتے ہوئے بھی جب خیالات میں حذبات کی آمیزش ہو حائے تو انسان وہ جنگ ہار جاتا ہے اور وہ کھلاڑی وسیم یے جو امید کی کرن بھی ہے ۔ اپنے پرسنیلیٹی ڈیفِسٹ کے باوجود امتل جیسے طوفان کا مقابلہ کرتا ہے اور محبت سے خیالات کی جنگ ہار دیتا ہے جو رہم کے قابل ہے۔اس کے جذبات میں ملاوٹ نہیں ہے جو انسانی نیچر نہیں ۔تخلیق ، تخیل اور ملسفہ پورے ناول میں اک دوسرے پر لپٹتے رہےمگر جنت سوچ و افکار کی ہی ہوِئی۔اس ناول میں حسن کو بازارِِ مصر میں لا کرنہ زلئخائی کروائی نا یوسف کی معصومیت وزن دیا گیا اس کا قصور وار وسیم بھی ہے اور امتل بھی۔۔۔شاید مصنف فیمنزم کی طرف انکلاِئیڈ ہے امتل کے سرخ ہونٹوں سے اختلاف ہو سکتا ، وسیم کی محبت جھوٹی ہو سکتی ہے مگر بیان کیے گئےواقعات کی سچائی سےانکار نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔۔

  2. says:

    رحیم گل یہ جو تخلیق کا کرب ہوتا ہے ناں زندگی کا سب سے انمول سرمایہ ہےامتل یہی تو مسلہ ہے جوں جوں شعور بڑھ رہا ہے توں توں فتور بڑھ رہا ہے بےخبر آدمی باخبر آدمی کے مقابلے میں بہت خوش نصیب ہے بالغ نظری سارے فساد کی جڑ ہے یہی تنہائی کے احساس کا منبع ہےامتل آپ وہ سچ ہیں جسے سو جھوٹوں نے پروان چڑھایا ہے میں وہ جھوٹ ہوں جسے سو سچائیوں نے جنم دیا ہے امتل کاش میں غاروں میں پیدا ہوئی ہوتی اور غاروں میں پروان چڑھی ہوتی فکر نے مجھے جو کردار دیا ہے وہ بالکل غیر فطری ہے دنیا بھر کی تہذیبوں کا بوجھ میرے سر پر ہے میری روح اس بوجھ تلے سسک رہی ہے

  3. says:

    Jannat Ki Talaash is a prominent Urdu novel by prominent Pakistani writer Rahim Gul This is a sort of itinerary than a novel as the four characters including the main character Imtal a girl traveling in northern areasPakistan and Baluchistan Pakistan and discussing with each other and with other people travelersDrivers officers servants and hippiesthe true purpose of life and human being during their journeys they came upon various types of people eg gypsies people living in mountains people with small means and compared their status of happiness and satisfaction with their own happiness and satisfactionThe story and most of the dialogues is mainly narrated by between two characters Imtal and Waseem I am giving it four stars as I did not enjoy the unnecessary philosophy in this book and the contradicting statements of characters and the characters life style and last but not the least I do not like this book because I believe to see poor people and taste their food is just an adventure for rich people

  4. says:

    Beyond my review

  5. says:

    رحیم گل کے سفرنامہ نما اس ناول میں زندگی کے بہت سے بنیادی سوالوں جیسے شر اور خیر، مذہب،سائنس،فلسفہ، محبت و نفرت اور اس جیسے متعدد پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ کہانی کے پلاٹ اور تین مرکزی کرداروں امتل، وسیم اور عاطف کی ترتیب اور تعلق بعض اوقات غیر فطری پن کا تاثر ابھارتا ہے۔ اتنی کم عمری میں بڑے بڑے دقیق موضوعات پر انتہائی عالمانہ گفتگو کرنے والی امتل زندگی کے میدان میں خود کو جہاندیدہ سمجھنے والے بہت سے شاہ زور پہلوانوں کو چاروں شانے چت کر دیتی ہے۔ جو کہ تھوڑا غیر یقینی سا نظر آتا ہے۔ چاہے وہ وسیم اور عاطف ہوں،بلوچستان کا ڈی ڈی ہو،اٹالین یا یورپی سیاح ہوں یا کرنل صاحب یا ڈاکٹر ہوں۔اگر پلاٹ کی بنت تھوڑی مزید توجہ سے کی جاتی تو یہ ناول اردو کے کلاسیکی ناولوں میں شمار کیا جا سکتا تھا۔ تاہم فطرت کی بے پناہ خوبصورتیوں کو اپنے اندر سموئے فلسفیانہ انداز میں لکھا گیا یہ ناول پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ جس میں انسانی اذہان میں پنپنے والے بہت سے سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی ایک کوشش کی گئی ہے۔ یہ الگ بات کہ یہ جوابات قاری کے ذہن میں مزید سوالات کو جنم دے دیتے ہیں ۔ کہانی کا اختتام ایک مثبت نوٹ پر ہوتا ہے جہاں امتل چوکیدار کی نومولود بچی کو جب سینے سے لگاتی ہے تو اسے صدائے کن کی لاریبیت پر یقین سا آ جاتا ہے اور وہ زندگی کو نئے سرے ایک نئے عزم سے گزارنے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔

  6. says:

    Some books you read some books you enjoy BUT some books just swallowe you up heart and soulThis book is full of knowledge thoughts love and beliefs We can say it one kind of travelogue along with philosophy of life Mainly book is consisted of two main characters Amtul and Wasim while there is light touch of Atif different tourists hippies a doctor and a ColonelThis story is about two totally opposite in nature people Amtul who is brilliant in knowledge thought proviking ideas while she didn't believe in human any not in life as wellWasim is full of life rich due to his father's wealth and using money to explore Pakistan unfortunately fall in love with the girl who have no hope of life She knows about love but ignore all the sentiments of wasim by answering all uestions by her hopeless and negativityThere are two people who have same beliefs like Amtul and have no hope from the world Remaing people think her as ideologically sick Variously when i read Amtul's thoughts i do recall my beliefs and tried to answer her ueries I highlighted various points in book which were unanswered in life and certainly i got the answers A mishap of life can change whole personality of a person this novel depicted it very clearly Reading this book actually reveals a lot of the stresses I had bottled up in my self But in this book firm attitude of Wasim impress me a lot he didn't give up at any single time and ignore all things besides him He always prefer to be with her to turn her back towards spirit of life in her With each line I found myself being unable to put the book down for even a minute when Amtul ask a tourist about 'saif ul Malook' lake he said i can't describe the view of it 'Go and see it by yourself' same is for other readers if you want to explore this book read it by your self and it will amaze your fantasies ThisBook can consider as a travelogue because the author presented an imaginative view of places and the Mountains which attract the reader I have visited 'Nalter' and the love story of wasim and the book has completed there which made me fall in love with 'Naltar' second timeRecommended to all people who are in love with a person or with mountains ❤

  7. says:

    فلسفے اور سفر نامے کے اجزاء کے اشتراق سے رحیم گل نے یہ ناول قلمبند کیا ہے جو زیادہ تر ڈائیلاگز پر مشتمل ہے البتہ اگر آپ سیر و سیاحت کے دلدادہ ہیں اور تصور و خیال کی خوبی آپ میں پائی جاتی ہے تو یہ ایک دلچسپ کہانی ہے۔ آپ پاکستان کی کئی خوبصورت جگہوں کے متعلق یہاں سے معلوم حاصل کرسکتے ہیں۔ صفحات کے اس ناول میں رحیم گل نے ہر اس سوچ پر بخث کی ہے جو ۴۴۰ آئے روز میں اور آپ سوچتے ہیں اور انہی سوچ و افکار کی وجہ سے میں اور آپ فطرت کے باغی بن گئے ہیں لیکن ناول پڑھنے کے بعد بھی نہ امتل اور نہ وسیم صاحب میرے ان سوالات کا جواب دے پائے ہیں جو بعض اوقات میں سوچتا ہوں۔ جنت اور دوزخ اس دنیا میں موجود ہے اور ناول پڑھنے کے بعد مجھے ایسا لگا کہ جیسے تصورات کی دنیا میں یہ تلاش مکمل ہوگئی ہے۔ میں نے یہ ناول اپنے دوست محمد عامر حسین چودھری کے کہنے پر پڑا تھا، وہ امتل کے کردار سے بےخد متاثر تھے البتہ میں امتل'' سے متاثر نہیں ہوسکا۔ مانتا ہوں امتل حقیقت پر مبنی باتیں کرتی تھی اور بقول کہانی کے کردار وسیم صاحب کے پیغمبرانہ باتیں کرتی تھی لیکن پورے 440 صفحات میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جو امتل صاحبہ سے بحث کرتا، سب ان سے متاثر ہوجاتے تھے سب ان کی چھوٹی اور ننھی سی ناک اور انگور کے دانے جیسے ہونٹوں کے سحر میں قید ہوجاتے، ناول میں کئی مقامات پر روح کی باتیں کی گئی لیکن میرے کند ذہن نے مجھے یہی خیال دیا کہ امتل کی باتیں مادہ پرستی پر ہیں۔ سب لوگوں کا اپنا نظریہ ہے، شاید میرا دوست سچ ہی کہتا ہے میں شاید امتل کی ذہانت اور حساس طبیعت کی بےباکی سے جلتا ہوں، مگر مجھے وسیم اور امتل کی یہ کہانی کافی مصنوعی لگی ہے، چند معاشرتی اور مذہبی فلسفے تھے جنکی وجہ سے اس کہانی میں تھوڑی سی جان تھی اور تھوڑا سا سفر نامہ تھا جنہوں نے کہانی کی گاڑی کو رینگتے رکھا۔ البتہ اگر آپ سفرنامے، فلسفے اور رومانوی طبیعت کے مالک ہیں تو یہ کہانی کافی بااثر ثابت ہوسکتی ہے، تفریحی مقامات کے متعلق آپ کے علم میں بھی اضافہ کرسکتی ہے۔

  8. says:

    Out class

  9. says:

    بہت اچھی کتاب کتاب میں ایسے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کے جوابات ہم ہمیشہ ڈھونڈتے رہتے ہیں اچھی کہانی

  10. says:

    excited

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *